ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا میں بی جے پی کے اعداد و شمار 282 سے 273 پر پہنچ گیا

لوک سبھا میں بی جے پی کے اعداد و شمار 282 سے 273 پر پہنچ گیا

Fri, 01 Jun 2018 00:16:43    S.O. News Service

نئی دہلی 31 مئی ( ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سال 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی نے 282 لوک سبھا سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ ایوان میں اکثریت کے اعداد و شمار سے 10 سیٹیں زیادہ۔ اسے واضح اکثریت مانا گیا تھا۔ ابھی 2018 کی بات کریں تو 31 مئی کو بی جے پی کے پاس لوک سبھا میں 273 سیٹیں ہیں۔ اس میں لوک سبھا اسپیکر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے پاس اب بھی اکثریت کے اعداد و شمار، کے ساتھ ساتھ حلیفوں کی 12 سیٹیں ہیں ۔اگرچہ 2014 سے اب تک بی جے پی کی 8 نشستیں کم ہو گئی ہیں، یہ صاف طور پر اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کو 2019 میں اقتدار میں دوبارہ واپسی کے لئے بہت محنت کرنی پڑے گی ۔ بی جے پی کی گنتی 282 سے 273 تک کیسے پہنچی؟ حال ہی میں بی جے پی کے یدی یورپا اور بی شری را م لونے لوک سبھا سے استعفیٰ دیا۔ دونوں کرناٹک اسمبلی رکن کے طور پر حلف لے لیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو دو سیٹوں پر ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہی سب سے بڑی وجہ بنی۔ 13 لوک سبھا سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو 8 پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں وہ نشستیں بھی شامل ہیں، جن کے نتیجے جمعرات کو سامنے آ ئے ہیں ۔ ان میں یوپی کی کیرانہ سیٹ سے سب سے زیادہ اہم مانی جا رہی ہے۔ یہ سیٹ پارٹی کے بڑے لیڈر حکم سنگھ کی شکست کے بعد خالی ہوئی تھی۔ بی جے پی کو آر ایل ڈی امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ آر ایل ڈی کے امیدوار کو کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ یہ تیسرا موقع ہے جب بی جے پی کو اتحاد کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ اس سے پہلے بی جے پی ایس پی اور بی ایس پی امیدوار کے امیدوار کے سامنے گورکھپور اور پھول پور سیٹ بھی ہار چکی ہے۔ یہ نشستیں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریا کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی ۔اس کے علاوہ مہاراشٹر کی بھنڈارا گو نڈیا سیٹ پر پارٹی کا نقصان ہونا بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے۔ یہ سیٹ پھر خالی ہوئی، جب بی جے پی کے ایم پی نانا پٹولے نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے سنگین مسائل پر تسلی بخش بات نہ ہونے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد پٹولے نے کانگریس پارٹی جوائن کر لی تھی۔ بی جے پی کے ریاست میں اپنے اتحادی شیوسینا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں ۔ بی جے پی کو سب سے تازہ دھچکا کرناٹک میں لگا، جہاں پارٹی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے بعد بھی سرکا بنانے میں ناکام رہی ۔یہ سب اس بات کا اشارہ ہیں کہ پارٹی کے پاس آنے والے وقت میں آرام کرنے کا وقت نہیں ہے۔ 2019 میں واپسی کے لیے بی جے پی کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی حلیف جماعتوں کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑ ھنا ہوگا ۔ 


Share: